پشاور کے علاقے دھیری کالونی میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے میں کم از کم پینتیس افراد جاں بحق اور چالیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق یہ واقعہ صبح آٹھ بج کر اڑتالیس منٹ پر اس وقت پیش آیا جب تین منزلہ اسکول کی عمارت کی چھت اچانک گر گئی۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں تینتیس جبکہ نصیر اللہ بابر میموریل ہسپتال میں دو افراد کی لاشیں لائی گئیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک خاتون اور چھ کمسن بچیاں بھی شامل ہیں، جس سے سانحے کی نوعیت مزید دلخراش ہو گئی ہے۔ سی سی پی او پشاور میاں سعید کے مطابق تاحال ملبے تلے دو بچوں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق اسکول کی عمارت کی تعمیر میں ناقص میٹریل استعمال کیا گیا تھا، جس کے باعث چھت وقت سے پہلے ہی کمزور پڑ چکی تھی۔ واقعے کے وقت چھت پر ایک سو دس سے ایک سو پندرہ بچے موجود تھے، جو چھت کا وزن برداشت نہ کر سکی اور منہدم ہو گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظتی جانچ میں مسلسل غفلت اس قسم کے سانحات کی بنیادی وجہ بنتی ہے۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کی جائے۔ وزیراعظم نے سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے عمارتوں کی حفاظتی معیارات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
مقامی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو اسکول کی عمارت کی تعمیر میں استعمال ہونے والے میٹریل، تعمیراتی نقشے کی منظوری اور متعلقہ اداروں کی نگرانی میں ممکنہ کوتاہیوں کا جائزہ لے گی۔ پولیس نے اسکول انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے، اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
مقامی رہائشیوں اور متاثرہ خاندانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر کے نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا فوری حفاظتی جائزہ لیا جائے، تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے سانحات سے بچا جا سکے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی اسکولوں کے لیے سخت حفاظتی قوانین وضع کیے جائیں اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
صوبائی حکومت نے سانحے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے، جبکہ زخمیوں کے علاج معالجے کے تمام اخراجات حکومت کی جانب سے برداشت کیے جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سانحہ ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظتی صورتحال پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے، اور اس ضمن میں فوری اور مؤثر اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔