بدھ کی صبح افغان طالبان رجیم کی جانب سے آٹھ ڈرونز پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوئے، جنہیں پاک فضائیہ کے جدید ایئر ڈیفنس سسٹم نے بروقت نشانہ بنا کر مار گرایا۔ ذرائع کے مطابق ان میں سے چار ڈرونز طورخم بارڈر سے ملحقہ علاقوں میں تباہ کیے گئے، جبکہ باقی ماندہ ڈرونز کو سرحد کے دیگر حساس مقامات پر ناکارہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ڈرونز جاسوسی اور ممکنہ تخریب کاری کے مقاصد کے لیے بھیجے گئے تھے، تاہم پاک فوج کی چوکسی کے باعث دشمن کا یہ منصوبہ بری طرح ناکام ہوا۔
نجی ذرائع کے مطابق اسی دوران افغان پشتون الخوارج دہشت گردوں نے پاکستانی سرحد میں دراندازی کی کوشش بھی کی، جسے بارڈر پر موجود پاک فوج کے مستعد جوانوں نے مؤثر اور منہ توڑ جواب دے کر ناکام بنا دیا۔ افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستانی سرحدی چوکیوں کو بھاری ہتھیاروں، مارٹر گولوں اور دیگر بھاری اسلحے سے بلا اشتعال نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں سرحدی علاقوں میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق گزشتہ شب پاک افواج نے کرم سیکٹر میں افغان طالبان رجیم کے مورچوں کو نشانہ بنا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ اس سے قبل سیکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ کرم سیکٹر میں دراندازی کی ناکام کوشش کے بعد افغان طالبان نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی، جس پر پاک فوج نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین سے مسلسل ہونے والی ان کارروائیوں کے پیچھے کالعدم دہشت گرد تنظیموں کا ہاتھ ہے، جنہیں افغان طالبان حکومت کی مبینہ سرپرستی حاصل ہے۔ پاکستان بارہا افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کر چکا ہے کہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے، تاہم تاحال مثبت پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔
پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ افواج پاکستان سرحدوں کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار اور چوکس ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ کسی بھی جانب سے پاکستانی سرزمین یا فضائی حدود کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور دشمن کی ہر کارروائی کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی چوکیوں پر تعینات جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے تاکہ ملک کی سالمیت اور عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
مقامی آبادی کے مطابق سرحدی علاقوں میں فائرنگ کے تبادلے سے خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد خاندانوں نے حفاظتی تدابیر کے طور پر نقل مکانی کی۔ انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ہدایات جاری کیں اور کہا کہ سیکیورٹی فورسز حالات پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر جاری کشیدگی دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے لیے سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب تک افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ عمل کارروائی نہیں کرتی، اس وقت تک سرحدی کشیدگی میں کمی کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین نے دونوں ممالک سے مطالبہ کیا کہ مسئلے کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ سفارتی رابطے بحال کیے جائیں، تاکہ سرحدی عوام کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور خطے میں امن و استحکام قائم ہو سکے۔