وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پاکستان تحریکِ انصاف کے مجوزہ پروگرام میں شرکت کے حوالے سے ایک جاندار اور پرعزم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ چار اکتوبر کو اگر موٹر سائیکل پر نہ جا سکے تو سائیکل پر جائیں گے، اور اگر سائیکل بھی میسر نہ ہوئی تو پیدل ہی سہی، ہر صورت میں شرکت کریں گے۔ ان کے اس بیان نے پارٹی کارکنوں میں نیا جوش و جذبہ پیدا کر دیا ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اسے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔
وزیراعلیٰ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تحریکِ انصاف اپنے مجوزہ احتجاجی پروگرام کی حتمی تیاریوں میں مصروف ہے اور پارٹی رہنما مسلسل کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ کسی بھی رکاوٹ، چاہے وہ ٹریفک پابندیاں ہوں یا نقل و حمل کی سہولیات کی کمی، پارٹی کارکنوں کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور کارکن اپنے مطالبات کے حق میں ہر قیمت پر آواز بلند کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ کارکنوں کے عزم اور جذبے کی علامت ہے، جو ہر مشکل کے باوجود اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے رہنے کے لیے تیار ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے راستے بند کرنے یا نقل و حمل محدود کرنے جیسے اقدامات سے کارکنوں کا حوصلہ کم نہیں ہوگا بلکہ اس سے ان کے عزم میں مزید اضافہ ہوگا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کے کارکن ہمیشہ سے مشکل حالات میں بھی اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، اور موجودہ صورتحال میں بھی وہی جذبہ اور یکجہتی دیکھنے کو ملے گی۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پرامن رہیں اور کسی بھی اشتعال انگیزی کا حصہ نہ بنیں، تاکہ پارٹی کا پیغام واضح اور مثبت انداز میں عوام تک پہنچے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے اس بیان کا مقصد کارکنوں میں جوش و جذبہ برقرار رکھنا اور آئندہ پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے بیانات عموماً بڑے احتجاجی پروگراموں سے قبل کارکنوں کو متحرک کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہوتے ہیں، اور اس سے پارٹی کی صفوں میں اتحاد کا تاثر بھی مضبوط ہوتا ہے۔
دوسری جانب پارٹی کے مخالفین نے وزیراعلیٰ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے اسے محض ایک جذباتی نعرہ قرار دیا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں کا اصرار ہے کہ یہ بیان کارکنوں کے حقیقی جذبے کی عکاسی کرتا ہے اور آئندہ پروگرام میں بھرپور عوامی شرکت دیکھنے میں آئے گی۔ آئندہ دنوں میں پارٹی کی جانب سے پروگرام کی مزید تفصیلات اور حتمی لائحہ عمل سامنے آنے کی توقع ہے، جس سے سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
واضح رہے کہ سہیل آفریدی گزشتہ کچھ عرصے سے خیبرپختونخوا میں پارٹی کے متحرک اور سرگرم رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں، اور وہ اکثر کارکنوں سے براہِ راست رابطے میں رہتے ہوئے انہیں پرعزم رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوامی طاقت ہی جمہوریت کی اصل بنیاد ہے، اور کارکنوں کا جوش و جذبہ ہی کسی بھی سیاسی تحریک کی کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔