خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں نمازِ جمعہ کے دوران ایک جامع مسجد کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم اکیس افراد شہید اور ایک سو تین سے زائد زخمی ہو گئے۔ یہ افسوسناک واقعہ کوہاٹ کی پرانی پولیس لائن کے قریب واقع جامع مسجد میں اس وقت پیش آیا جب مسجد میں جمعہ کی نماز کی تیاری جاری تھی۔
عینی شاہدین اور پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے خودکش دھماکہ کیا، جس کے فوراً بعد بارود سے بھری ایک گاڑی مسجد کے قریب لا کر دھماکہ خیز مواد سے اڑا دی گئی۔ دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ان کی آواز شہر کے مختلف علاقوں تک سنائی دی اور آس پاس کے گھروں کے شیشے تک ٹوٹ گئے۔ دھماکوں کے نتیجے میں مسجد کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
شہید ہونے والوں میں ایس پی ٹریفک اکبر شہواری، ڈی ایس پی سٹی اور ڈی ایس پی عصمت اللہ سمیت ان کے بھائی انسپکٹر نعمت اور فرنٹیئر ریزرو پولیس کے دیگر گیارہ اہلکار بھی شامل ہیں، جو کوہاٹ میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ اعلیٰ پولیس افسران کی بڑی تعداد میں شہادت اس واقعے کو مزید سنگین اور تکلیف دہ بنا دیتی ہے۔
دھماکوں کے فوری بعد علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں شدید زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث طبی عملے کو ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا پڑا۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے تمام عملے کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی اور خون کے عطیات کے لیے بھی اپیل کی گئی۔
کالعدم دہشت گرد تنظیم، جسے سرکاری طور پر فتنہ الخوارج کا نام دیا جاتا ہے، نے اس بہیمانہ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ حکام کے مطابق حملے کے فوری بعد شروع کیے گئے سرچ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے چھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ علاقے میں باقی ماندہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تلاشی کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔
اس افسوسناک واقعے کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت مختلف سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے۔ حکام نے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور اس گھناؤنے حملے میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ عبادت گاہوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والا یہ حملہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، اور اس سے خطے میں دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کو مزید مؤثر اور تیز کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ عوام میں اس واقعے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ذمہ داروں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔