سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ کی جانب بڑھتے ہوئے ایک حوثی ڈرون کو بروقت نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، جس سے یمن سے چلائی گئی یہ خطرناک کارروائی ناکام بنا دی گئی۔ سعودی حکام کے مطابق ڈرون کو حرمِ مکہ کے قریب پہنچنے سے قبل ہی فضا میں ہی مار گرایا گیا، اور اس بروقت اور مؤثر کارروائی کو دفاعی حلقوں میں قابلِ تحسین قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی فوجی اتحاد نے اس واقعے کو یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ایک بڑی اور سنگین پیش رفت قرار دیتے ہوئے سخت وارننگ جاری کی ہے۔ اتحاد کی جانب سے واضح کیا گیا کہ مقدس مقامات کا تحفظ ایک ریڈ لائن ہے اور حوثیوں کی جانب سے کسی بھی قسم کی گستاخانہ کارروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سعودی فوج نے کہا ہے کہ باغیوں کے خلاف جملہ ضروری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ آئندہ ایسی کسی کوشش کا راستہ روکا جا سکے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب سعودی عرب، پاکستان اور دیگر برادر اسلامی ممالک کے مابین طے پانے والا مکہ معاہدہ زیرِ بحث ہے، جسے ایک اجتماعی دفاعی معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے شعبہ تعلقاتِ عامہ برائے بین الخدمات (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے اس ضمن میں کہا کہ مکہ معاہدہ اجتماعی دفاع کی ضمانت ہے اور اس کا بنیادی مقصد علاقائی امن اور استحکام ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ معاہدے کی آپریشنل تفصیلات کو عام نہیں کیا جاتا کیونکہ دنیا کا کوئی بھی ملک یا فوج اپنی دفاعی اور آپریشنل نوعیت کی تفصیلات سرِعام ظاہر نہیں کرتی۔
اسی دوران نیویارک سے موصولہ رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے دفاعی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اسے اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ باب المندب کے راستے جاری حملوں سے نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ آبنائے عالمی تجارتی بحری راستوں میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ حرمین شریفین کی سلامتی پر کسی بھی قسم کی زد پوری امتِ مسلمہ کے جذبات سے جڑا ہوا معاملہ ہے، اور اسی لیے اس ناکام حملے کی خبر پر مسلم دنیا میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا گیا۔ ماہرین کے مطابق سعودی عرب کا جدید فضائی دفاعی نظام، جو حالیہ برسوں میں بڑے پیمانے پر اپ گریڈ کیا گیا ہے، اس طرح کے خطرات کا فوری اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جیسا کہ اس واقعے میں دیکھنے میں آیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ سمیت دیگر اسلامی ممالک باہمی دفاعی و سفارتی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ناکام حملہ درحقیقت خطے کے دفاعی اتحاد کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے، اور توقع ہے کہ آئندہ دنوں میں سعودی عرب، پاکستان اور دیگر شراکت دار ممالک کے مابین سلامتی سے متعلق مشاورت میں تیزی آئے گی۔ عالمی برادری کی جانب سے بھی اس واقعے پر ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سطح پر بھی اس معاملے کو اٹھایا جائے گا تاکہ حوثی باغیوں کی جانب سے ایسی کارروائیوں کا مستقل سدباب کیا جا سکے۔