اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پمز (پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) کی نرسری میں لگنے والی آگ کے سانحے کی تحقیقاتی رپورٹ منظرِ عام پر آگئی ہے جس نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نرسری میں موجود پندرہ نومولود بچوں میں سے چودہ جاں بحق ہوگئے جبکہ صرف ایک بچہ محفوظ رہ سکا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے چھبیس اگست کے اس دلخراش واقعے کے بعد فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے سربراہ سابق وفاقی سیکریٹری شاہد خان مقرر کیے گئے۔ کمیٹی میں میجر جنرل (ریٹائرڈ) ڈاکٹر خورشید، بریگیڈیئر نبیل احمد اعوان، سیکریٹری کیبنٹ ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سمیت دیگر اراکین شامل تھے، جبکہ امریکہ سے تعلق رکھنے والی ماہر ڈاکٹر رشیدہ پروانی کو بھی خصوصی طور پر کمیٹی کا حصہ بنایا گیا۔ کمیٹی نے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر ابتدائی رپورٹ پیش کی جو اٹھائیس اگست کو منظرِ عام پر آئی، جبکہ حتمی رپورٹ چھ ستمبر کو مکمل کی گئی۔
تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے کا جائزہ باون نکاتی منظم تحقیقاتی فریم ورک کے تحت لیا اور اس ضمن میں فرانزک شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، انجینئرنگ و تکنیکی دستاویزات، عملے کی حاضری کے ریکارڈ اور عینی شاہدین کے بیانات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی تصدیق کرتی ہے کہ نرسری میں ہنگامی صورتحال غیرمعمولی تیزی سے پیدا ہوئی اور سہ پہر تقریباً پونے چار بجے آگ نے شدت اختیار کر لی۔ اس نازک موقع پر چارج نرس نسرین اختر، سکیورٹی گارڈ نازیم اور اسٹاف نرس رضیہ نورین سمیت عملے کے متعدد افراد نے فوری اور بہادرانہ کارروائی کرتے ہوئے بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔ نرس رضیہ نورین نے ایک نومولود کو باہر نکالنے کے بعد دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی، جبکہ ڈاکٹر محمد عبدالرحمٰن بھی اس وقت موقع پر موجود تھے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ دستیاب شواہد ان الزامات کی تردید کرتے ہیں کہ عملے نے بچوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔
قومی فرانزک ایجنسی کے مضبوط ترین شواہد کے مطابق آگ لگنے کا سب سے ممکنہ مقام نرسری بے وَن کے قریب نصب اے سی یونٹ نمبر دو کی بجلی کی کیبل تھی، جہاں غیرمعمولی حرارت، زائد کرنٹ یا کمزور کنکشن کے باعث کیبل کی انسولیشن متاثر ہوئی اور قریب موجود آتش گیر مواد نے آگ پکڑ لی۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ ایک سے زائد مقامات سے آگ بھڑکنے کے شواہد موجود ہیں، جس کی بنا پر تحقیقاتی ادارہ حتمی طور پر کسی بیرونی برقی خرابی یا آگ لگنے سے قبل آکسیجن کے اخراج کو واحد وجہ قرار دینے سے گریزاں ہے۔
رپورٹ میں سب سے تشویشناک انکشاف یہ ہے کہ نرسری میں کیبلز، ٹرمینیشنز، انسولیشن، ارتھنگ اور بریکر پروٹیکشن کی جامع برقی حفاظتی جانچ کا کوئی مؤثر نظام سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ برقی آلات کا محض فعال ہونا اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ وہ محفوظ بھی ہیں۔ اس کے علاوہ نومولود بچوں کے ہنگامی انخلا کے لیے باقاعدہ منظور شدہ اور تربیت یافتہ عملے کے ذریعے مشق شدہ کوئی معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) بھی دستیاب نہیں تھا، اور نہ ہی خودکار دھواں خارج کرنے والا الارم یا اسپرنکلر سسٹم نصب تھا۔ نرسری میں گنجائش سے کہیں زیادہ بچے زیرِ علاج تھے جس سے ہنگامی انخلا کی صلاحیت شدید متاثر ہوئی۔
کمیٹی کے مطابق یہ سانحہ کسی ایک شعبے کی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں سے موجود انتظامی، تکنیکی اور ریگولیٹری خامیوں کا مجموعی نتیجہ ہے جنہیں بروقت دور نہیں کیا گیا۔ کمیٹی نے ذمہ داری کے تعین کے ساتھ ساتھ حفاظتی نظام کی مکمل تنظیمِ نو کے لیے سفارشات بھی مرتب کی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔ اس رپورٹ کے بعد حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف فوری اور شفاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور ملک بھر کے سرکاری ہسپتالوں کی نرسریوں میں حفاظتی معیار کو یقینی بنایا جائے۔