بلوچستان کے ضلع مستونگ سے اغوا کیے گئے بائیس پولیس اہلکار دو روز تک مسلح افراد کی قید میں رہنے کے بعد اتوار کے روز بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔ بازیاب ہونے والے اہلکاروں نے حراست کے دوران پیش آنے والے تلخ واقعات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی گھنٹوں تک بھوکا پیاسا رکھا گیا۔
اہلکاروں کے مطابق اغوا کاروں نے انہیں دوران حراست دھمکیاں دیں اور ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ پولیس کی ملازمت فوری طور پر چھوڑ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دباؤ نہ صرف زبانی تھا بلکہ جسمانی تشدد کے ذریعے بھی انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاکہ وہ مستقبل میں محکمہ پولیس سے وابستہ نہ رہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب یہ اہلکار اپنی ڈیوٹی کے دوران یا اس سے واپسی پر مسلح افراد کے ہتھے چڑھ گئے، جنہوں نے انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے جا کر نامعلوم مقام پر قید میں رکھا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے بازیابی کے لیے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیا، جس کے نتیجے میں دو روز بعد تمام اہلکار بازیاب کرا لیے گئے۔
بازیاب اہلکاروں کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کے جسم پر تشدد کے نشانات کی تصدیق کی۔ اہلکاروں کی حالت مجموعی طور پر خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے، تاہم ذہنی دباؤ اور خوف کے باعث کئی اہلکار صدمے کی حالت میں دکھائی دیے۔ پولیس حکام نے واقعے کی تفصیلی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات سے نہ صرف اہلکاروں کی جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ محکمہ پولیس میں بھرتی اور ملازمت جاری رکھنے کے رجحان پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ کئی بازیاب اہلکاروں نے نجی گفتگو میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں اس پیشے سے وابستہ نہیں رہنا چاہتے، جس پر محکمانہ حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
صوبائی حکومت اور اعلیٰ پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اغوا میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لیے خفیہ اداروں کی مدد سے تحقیقات جاری ہیں اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی رہنماؤں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اہلکاروں پر اس طرح کے حملے پورے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے لیے سنگین خطرہ ہیں، اور حکومت کو اس ضمن میں فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
مستونگ کے عمائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع میں پولیس اہلکاروں کی نقل و حرکت کے لیے محفوظ راستے اور بروقت کمک کا انتظام کیا جائے، تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے اور اہلکار بلاخوف اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔