ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی کے 21 نکاتی امن فارمولے پر عرب رہنماؤں نے تجاویز پیش کردیں

عرب رہنماؤں کے ساتھ ملاقات نتیجہ خیز رہی؛ امریکی خصوصی ایلچی

امریکا کے خصوصی ایلچی برائے امن مشنز اسٹیو وٹکوف نے بتایا کہ عرب ممالک کے سربراہان کے ساتھ غزہ امن اجلاس نہایت کامیاب اور نتیجہ خیز رہا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اجلاس میں امریکی نمائندوں نے عرب رہنماؤں کو صدر ٹرمپ کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا۔

اسٹیو وٹکوف نے نیویارک میں کانکورڈیا سمٹ سے خطاب میں بتایا کہ ہم نے صدر ٹرمپ کی جانب سے 21 نکاتی امن منصوبہ عرب رہنماؤں کو پیش کیا۔

امریکی خصوصی ایلچی کے بقول یہ امن منصوبہ اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کے خدشات کو بھی مدنظر رکھتا ہے اور ہمیں امید ہے کہ آئندہ دنوں میں کوئی پیش رفت سامنے آئے گی۔

منصوبے میں حماس کے قبضے کے بغیر غزہ میں حکمرانی کا فریم ورک، تمام یرغمالیوں کی رہائی، مستقل جنگ بندی اور اسرائیل کی بتدریج غزہ سے واپسی شامل ہے۔

عرب رہنماؤں نے بڑی حد تک منصوبے کی حمایت کی، تاہم اپنی تجاویز بھی پیش کیں جن میں شامل ہیں؛

  • مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم نہ کرنے کی یقین دہانی

  • یروشلم میں موجودہ اسٹیٹس کو قائم رکھنا
  • غزہ جنگ کا خاتمہ اور یرغمالیوں کی رہائی
  • غزہ کے لیے انسانی امداد میں اضافہ
  • اسرائیلی غیر قانونی بستیوں کے مسئلے کا حل

علاقائی رہنماؤں نے اس ملاقات کو "انتہائی مفید” قرار دیا جب کہ ٹرمپ انتظامیہ اور عرب رہنماؤں نے ایسی مزید ملاقاتوں پر بھی اتفاق کیا ہے۔

یورپی ممالک کو بھی اس امریکی امن منصوبے کا خلاصہ فراہم کیا گیا تھا جسے دو یورپی سفارتکاروں نے میڈیا سے گفتگو میں ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا۔

یورپی سفارتکاروں کا کہنا تھا کہ یہ امن منصوبہ اسرائیل کو مغربی کنارے کے مزید انضمام سے روک سکتا ہے اور اس سے ابراہام معاہدوں کے دائرہ کار کو بڑھانے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے دوحہ میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا جس کے بعد سے قطر نے ثالثی کی کوششیں معطل کردی تھی۔ جس کی وجہ سے امن مذاکرات رک گئے تھے۔

جس پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل اور قطر کے ایک اہم دورے میں کہا تھا کہ وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ غزہ میں امن کے لیے ایک معاہدہ جلد ضروری ہے۔

اس دورے کے بعد قطر نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کرتا رہے گا بشرطیکہ آئندہ اسرائیل ان کی سرزمین پر کوئی حملہ نہ کرے۔

قبل ازیں سعودیہ اور فرانس نے فلسطین کے دو ریاستی حل پر ایک کانفرنس منعقد کی تھی جس کے بعد متعدد یورپی ممالک نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرلیا ہے۔

اس کانفرنس کا امریکا نے بائیکاٹ کیا تھا کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا "حماس کو انعام دینے” کے مترادف ہوگا۔

ہمارے ساتھ شامل ہوں

مقبول خبریں

سلمان اقبال بٹ کو رپورٹ میں 10 مختلف معاملات پر رپورٹ میں وضاحت دینے کی ہدایت کی گئی ہے

E Paper 20 08 2026

E Paper 20 08 2026

BPPPA Quetta Invites Bids for Group Medical Insurance Services

BPPPA Quetta Invites Bids for Group Medical Insurance Services

E Paper 18 08 2026

E Paper 18 08 2026

Quetta NiP Complex Residential Flats Repair and Renovation Tender 2026

Quetta NiP Complex Residential Flats Repair and Renovation Tender 2026

E Paper 17 08 2026

E Paper 17 08 2026

E Paper 15 08 2026

E Paper 15 08 2026

E Paper 14 08 2026

E Paper 14 08 2026

Balochistan Social Welfare Department Tender for Technology Services 2026

Balochistan Social Welfare Department Tender for Technology Services 2026

District Mastung Development Works Tender Notice 2026

District Mastung Development Works Tender Notice 2026

انٹرٹینمنٹ

رائے

متعلقہ

E Paper 20 08 2026

E Paper 20 08 2026

BPPPA Quetta Invites Bids for Group Medical Insurance Services

BPPPA Quetta Invites Bids for Group Medical Insurance Services

E Paper 18 08 2026

E Paper 18 08 2026

Quetta NiP Complex Residential Flats Repair and Renovation Tender 2026

Quetta NiP Complex Residential Flats Repair and Renovation Tender 2026

E Paper 17 08 2026

E Paper 17 08 2026

E Paper 15 08 2026

E Paper 15 08 2026