وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک بھر کے سرکاری اسکولوں اور دینی مدارس کے پانچ لاکھ ہونہار طلباء و طالبات میں جدید کروم بکس تقسیم کرنے کے پروگرام کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ اسلام آباد میں منعقدہ پروقار تقریب میں وزیراعظم نے خود اپنے ہاتھوں سے طلباء کو کروم بکس عطا کیے، جبکہ اس موقع پر اسلام آباد کے چاق و چوبند طلباء نے وزیراعظم کو سلامی بھی پیش کی۔
تقریب کو ‘’پانچ لاکھ کروم بک، پانچ لاکھ خواب’’ کے عنوان سے منسوب کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو ملک کا قیمتی سرمایہ سمجھتی ہے اور ان کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کرے گی، تاکہ وہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کروم بکس میرٹ اور قابلیت کی بنیاد پر طلباء میں تقسیم کیے جا رہے ہیں، جن کے ساتھ انٹرنیٹ ڈیوائس اور بیگز کی فراہمی کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ وہ عالمی سطح پر مقابلے کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔
حکام کے مطابق اس اسکیم کے تحت ملک بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں اور دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے پانچ لاکھ طلباء و طالبات کو مرحلہ وار کروم بکس فراہم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے طلباء کو بھی جدید ڈیجیٹل تعلیم کی سہولیات تک رسائی فراہم کرنا ہے، تاکہ تعلیمی شعبے میں موجود ڈیجیٹل تفریق کو کم کیا جا سکے۔
وزیراعظم نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ آنے والے دو سالوں کے دوران نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے اور تعلیمی تقاضوں کو قومی ترجیحات کے مطابق پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو جدید علوم سے آراستہ کیے بغیر ملک کی حقیقی ترقی ممکن نہیں، اس لیے حکومت تعلیمی شعبے میں سرمایہ کاری کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔
تقریب میں وفاقی وزراء، اعلیٰ حکام اور بڑی تعداد میں طلباء و طالبات نے شرکت کی۔ طلباء نے کروم بکس کی فراہمی پر حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس اقدام سے انہیں آن لائن تعلیمی وسائل تک رسائی حاصل ہوگی اور ان کی تعلیمی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
تعلیمی ماہرین نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی سے طلباء کی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس طرح کے منصوبوں کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے ملک کے ہر ضلع اور پسماندہ علاقے تک اس کی رسائی یقینی بنانی چاہیے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور چاروں صوبوں کے سرکاری اسکولوں اور دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے طلباء کو ترجیحی بنیادوں پر کروم بکس فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ساتھ ہی طلباء کو ایک سال کے لیے مفت انٹرنیٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ بلا تعطل آن لائن تعلیمی وسائل سے استفادہ کر سکیں۔