امریکا نے اسرائیل کو دو ہزار پاؤنڈ وزنی چالیس ہزار بم فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے، جو خطے میں ہتھیاروں کی منتقلی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تشویشناک پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان بموں کی تباہ کن صلاحیت دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان کے شہر ہیروشیما پر گرائے جانے والے ایٹم بم سے چھ گنا زیادہ بتائی جا رہی ہے، جس سے ان ہتھیاروں کی ہولناکی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے ذرائع کے مطابق یہ منظوری باضابطہ طریقہ کار کے تحت دی گئی ہے اور اس کا مقصد اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم بنانا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور امن پسند حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور اس قسم کے بھاری ہتھیاروں کی فراہمی مزید تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرینِ دفاعی امور کا کہنا ہے کہ دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم انتہائی طاقتور تصور کیے جاتے ہیں اور عام طور پر مضبوط تعمیرات اور زیرِ زمین تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اس قسم کے بموں کا بڑے پیمانے پر استعمال شہری آبادی والے علاقوں میں ہونے کی صورت میں بھاری جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہوتا ہے، جس کے باعث عالمی برادری کو اس فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بھاری ہتھیاروں کی منتقلی سے خطے میں جاری تنازعات میں شہریوں کی ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ مختلف عالمی رہنماؤں اور تنظیموں نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار مثبت انداز میں ادا کرے۔
دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانے اور اس کی دفاعی تیاریوں کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے اور یہ فیصلہ باقاعدہ جائزے اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے جاری کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دینی چاہیے، تاکہ مزید تباہی اور جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ اس نوعیت کے فیصلے عالمی سطح پر ہتھیاروں کے کنٹرول اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں، اور اقوامِ متحدہ سمیت متعلقہ عالمی اداروں کو اس معاملے میں مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اسرائیل کا سب سے بڑا دفاعی حامی اور ہتھیاروں کا اہم فراہم کنندہ ہے، اور ماضی میں بھی متعدد بار امریکی حکومتوں نے اسرائیل کو جدید ہتھیاروں کی فراہمی کی منظوری دی ہے۔