چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ایک اعلیٰ سطحی امریکی فوجی وفد نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ملاقات کی، جس میں پاک افغان کشیدگی، علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی وفد کی سربراہی امریکی مسلح افواج کے اعلیٰ اہلکار نے کی، جبکہ ملاقات میں دونوں جانب سے اعلیٰ فوجی و سفارتی حکام بھی شریک تھے۔
ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی وفد کو افغانستان کی تازہ ترین صورتحال، خطے کی سیکیورٹی اور بیس سالہ افغان جنگ میں پاکستان کے کردار پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے امریکی وفد کو پاکستان اور افغانستان کے مابین جاری طویل کشیدگی کے پس منظر، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مسلسل قربانیوں اور موجودہ سیکیورٹی چیلنجز سے بھی آگاہ کیا۔
آرمی چیف نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کی سرگرمیاں خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو ترجیح دی ہے، تاہم دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا مؤقف واضح اور غیر لچکدار ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی وفد پر زور دیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور افغان عبوری حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گرد گروہوں کے استعمال سے روکے۔ انہوں نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات علاقائی سلامتی اور عالمی امن کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، اور دونوں ممالک کو مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنا چاہیے۔
امریکی وفد نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی گئی قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ سیکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔ وفد نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین دیرینہ فوجی تعلقات علاقائی استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔
ملاقات میں پاک امریکہ دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے، مشترکہ تربیتی پروگراموں اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں جانب نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سفارتی و دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ پاک افغان سرحد پر حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کا اس معاملے میں دلچسپی لینا اور پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنا خطے کی سیکیورٹی صورتحال کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، اور توقع ہے کہ آئندہ دنوں میں دونوں ممالک کے مابین مزید اعلیٰ سطحی روابط دیکھنے میں آئیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے پاک افغان سرحد پر متعدد مقامات پر کشیدگی اور جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جن میں سرحد پار سے دراندازی اور دہشت گردانہ حملوں کے واقعات بھی شامل ہیں۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی افواج بارڈر پر مکمل چوکس ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، جبکہ سفارتی سطح پر بھی مسئلے کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔