اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بتایا ہے کہ پاور سیکٹر کا تصدیق شدہ گردشی قرضہ 2400 ارب روپے سے کم ہوکر 1680 ارب روپے رہ گیا ہے، جبکہ پنجاب کی تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں بلوں کی وصولی 100 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 200 یونٹ سے زائد استعمال پر گزشتہ 6 ماہ سے دی جانے والی اضافی چارجز کی معافی کا معاملہ اب ختم کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق پاور سیکٹر میں شفافیت اور بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے اہم اصلاحاتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تقسیم کار کمپنیوں میں پیشہ ورانہ بورڈز تشکیل دے کر اقربا پروری کے خاتمے کی کوشش کی گئی ہے، جبکہ شعبے میں ڈی سینٹرلائزیشن کا عمل بھی جاری ہے تاکہ فیصلہ سازی مقامی سطح پر مؤثر اور تیز تر ہو سکے۔
اویس لغاری نے کہا کہ گردشی قرضے میں مسلسل کمی حکومت کی توانائی اصلاحات کی پالیسی کا نتیجہ ہے اور اس سے بجلی کمپنیوں کی مالی حالت میں بہتری آئی ہے۔ وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وصولی کی شرح میں بہتری سے صارفین پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر سیکٹر کو خسارے سے نکالنے میں مدد مل رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد توانائی کے شعبے کو خود کفیل اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ہے، تاکہ مستقبل میں بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔