بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل ٹال کے علاقہ بیسار میں مسلح افراد نے ایک مارمل فیکٹری پر حملہ کر کے اٹھارہ مزدوروں کو اغوا کر لیا جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔ یہ واقعہ گزشتہ شب اس وقت پیش آیا جب نامعلوم مسلح افراد بھاری تعداد میں فیکٹری کے احاطے میں داخل ہوئے اور وہاں کام کرنے والے مزدوروں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اغوا ہونے والے تمام مزدوروں کا تعلق ٹال اور روڈھو و ہیر کے علاقوں سے بتایا جاتا ہے۔ مسلح افراد نے فیکٹری میں موجود عملے کو ہتھیاروں کے زور پر یرغمال بنایا اور مزاحمت کرنے والے ایک کارکن کو فائرنگ کا نشانہ بنایا، جو شدید زخمی ہوا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی رہائشی اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔
اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کی ناکہ بندی کرتے ہوئے اغوا کاروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ زخمی مزدور کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ تاحال کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
مقامی صنعتکاروں اور مزدور تنظیموں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خضدار کے صنعتی علاقوں میں تحفظ کی مؤثر فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اغوا ہونے والے تمام مزدوروں کو جلد از جلد بازیاب کرایا جائے اور ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کا سدباب ہو سکے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق مغوی مزدوروں کی بازیابی کے لیے اضلاع بھر میں خفیہ اداروں اور پولیس کی مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مار رہی ہیں۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مغویوں کی بازیابی تک آپریشن جاری رہے گا اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
بلوچستان میں معدنی اور صنعتی مقامات پر اس طرح کے حملوں اور اغوا کی وارداتوں میں حالیہ عرصے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث علاقے میں کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنائے بغیر صنعتی اور معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کرنا مشکل ہو گا۔
سول سوسائٹی کے نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خضدار سمیت صوبے کے دیگر پسماندہ اضلاع میں سیکیورٹی اداروں کی نفری اور گشت میں اضافہ کیا جائے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں صنعتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ بار بار رونما ہونے والے ایسے واقعات سے روزگار کے مواقع بھی محدود ہوتے جا رہے ہیں، جو پہلے ہی پسماندہ علاقے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
مقامی رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خضدار کے صنعتی مراکز کی حفاظت کے لیے مستقل چیک پوسٹیں قائم کی جائیں اور مزدوروں کو تحفظ کا احساس دلانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ علاقے میں معاشی سرگرمیاں بحال رہ سکیں اور غریب مزدور خاندان بلاخوف اپنا روزگار جاری رکھ سکیں۔