پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اہم ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں ملک کی موجودہ آئینی و سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ذرائع کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب خیبرپختونخوا میں آئینی مداخلت سے متعلق قرارداد ایوانِ بالا سمیت پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور کرائی جا چکی تھی، اور اتحادی جماعتوں کے مابین مشاورت کا عمل جاری تھا۔
بلاول بھٹو زرداری نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ موجودہ حالات میں سینیٹ کی جانب سے دی گئی تجاویز اور مشورے کی روشنی میں مشترکہ مشاورت کے علاوہ کوئی اور آپشن موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں نے مل بیٹھ کر ہی اس نازک معاملے پر مشترکہ لائحہ عمل طے کیا، تاکہ ملکی سیاسی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
پی پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ کسی بھی صوبے میں آئینی اقدام اٹھانے سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے، اور اسی اصول کے تحت وفاقی حکومت اور اتحادی جماعتوں کے مابین مسلسل رابطہ کاری جاری رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے فروغ پر یقین رکھتی ہے، اور کسی بھی فیصلے میں یہی اصول پیشِ نظر رکھے جاتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس موقع پر پیپلزپارٹی کی جانب سے دیے گئے تعاون کو سراہا اور کہا کہ اتحادی جماعتوں کے باہمی اعتماد اور مشاورت ہی جمہوری حکومت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام فیصلے قومی مفاد اور آئینی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں، اور حکومت ہر مرحلے پر اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعظم کے مابین یہ رابطہ حکومتی اتحاد میں پائے جانے والے ہم آہنگی کا مظہر ہے، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حساس آئینی فیصلوں میں تمام فریقین کی رضامندی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پیپلزپارٹی کی حمایت کے بغیر اس نوعیت کے فیصلے پارلیمان سے منظور کرانا مشکل ہوتا، اس لیے یہ رابطہ سیاسی اعتبار سے خاصی اہمیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب کچھ حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے اہم فیصلوں میں اتحادی جماعتوں کی مشاورت بروقت اور مؤثر انداز میں ہونی چاہیے، تاکہ بعد میں کسی قسم کے اختلافات یا غلط فہمیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں وفاقی حکومت اور اتحادی جماعتوں کے مابین اسی نوعیت کے مزید رابطے اور مشاورتی اجلاس متوقع ہیں، خصوصاً خیبرپختونخوا کی صورتحال سے متعلق آئندہ لائحہ عمل کے تعین کے لیے۔
واضح رہے کہ پیپلزپارٹی وفاقی حکومتی اتحاد کا اہم حصہ ہے، اور بلاول بھٹو زرداری ماضی میں بھی متعدد اہم قومی و آئینی معاملات پر وزیراعظم اور دیگر اتحادی رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ جمہوری اداروں کی مضبوطی اور آئینی بالادستی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی، خواہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔