وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسیویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہیں اور پاکستان حرمین شریفین کی حرمت و تقدس کے تحفظ کے لیے ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے وہ عالمی برادری کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اسلامی مقدس مقامات کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے عرب ممالک کے خلاف حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا باہمی دفاعی اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد اسلامی ممالک کے مابین یکجہتی اور باہمی تعاون کی ایک نئی مثال قائم کرے گا، اور کسی بھی رکن ملک کی سلامتی پر حملہ پورے اتحاد کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
خطاب کے دوران وزیراعظم نے مئی میں پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والی حالیہ کشیدگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستانی افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کا مؤثر مقابلہ کیا اور اسے ایسا سبق سکھایا جسے وہ کبھی نہیں بھولے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں محفوظ رہیں، کیونکہ دونوں پڑوسی ممالک اس وقت مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ ایسی خطرناک صورتحال سے بچانے کے لیے مسئلہ کشمیر کا دیرپا اور منصفانہ حل تلاش کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ خطے کا پائیدار امن اسی سے مشروط ہے۔
انہوں نے امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ پاکستان نے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کی ہیں تاکہ جنگ کے بجائے مکالمے کے ذریعے مسائل حل کیے جا سکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کوئی بھی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہونا چاہیے بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سب فریقین کو مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔
وزیراعظم نے سمندری راستوں کی حفاظت اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا اور کہا کہ خطے میں کسی بھی نوعیت کی کشیدگی عالمی معیشت کے لیے شدید نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق وزیراعظم کا یہ خطاب پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ایک اہم کوشش تھا، جس میں اسلامی دنیا کے ساتھ یکجہتی، علاقائی امن اور عالمی سفارت کاری میں پاکستان کے کردار کو نمایاں کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس خطاب سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم خدوخال واضح ہوتے ہیں، اور آنے والے دنوں میں اس ضمن میں مزید سفارتی پیش رفت متوقع ہے۔